شیخ ابو الحسن ندوی سینٹر للبحوث والدراسات الإسلامیة



مشاہیر کے تاثرات

حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی دامت برکاتہم
اس مرتبہمرکز ابو الحسن الندوی کو پوری طرح فعال شکل میں دیکھا ۔ عظیم قیمتی کتب خانہ اس میں قائم ہو گیا ہے جس میں متعدد کتابیں ایسی ہیں جو دوسرے بڑے کتب خانوں میں ابھی مہیا نہیں ہیں ۔ خود ادب عربی و سیر و تراجم پر متعدد کتابیں ہمیں ایسی ملیں جو دوسرے کتب خانوں میں دستیاب نہیں ہیں تو حدیث و تفسیر اور دینی موضوعات کا کیا حال ہوگا ۔ یہ مولانا تقی الدین صاحب اور ان کے صاحبزادے ڈاکٹر ولی الدین ندوی کی فکر اور توجہ کا نتیجہ ہے ۔ کتب خانہ کا ماحول پُر سکون اور مناظر طبعیہ سے معمور ہے جو مطالعہ میں انہماک اور اخذ کی صلاحیت میں اضافہ پیدا کرتا ہے مرکز میں قیام کا بھی اچھا نظم ہے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے، متعدد حدیث کی کتابوں کی تحقیق کا کام بھی جاری ہے ایسی صورت میں یہ بحث و تحقیق کا بھی مرکز بن جائے گا اور علمی کاوشوں کے نتائج سامنے آئیں گے ۔
حضرت مولانا ﴾محمد رابع ندوی﴿
شیخ محمدمحمود الصیام امام مسجد اقصیٰ
مجھے جامعہ اسلامیہاور مرکز الشیخ ابو الحسن الندوی کی زیارت باسعادت کی توفیق ملی طلبہ کے تعلیمی اہتمام اور اساتذہ کے اخلاص سے دلی مسرت حاصل ہوئی نیز حضرت مولانا ڈاکٹر تقی الدین ندوی دامت برکاتہم کی ملاقات کا شرف حاصل ہوا ۔ میں نے مرکز الشیخ کا تفصیلی معائنہ کیا اس کی اہم اور قیمتی مطبوعات دیکھ کر مسرت ہوئی جو دنیا کے مختلف گوشوں مثلاً ترکی مغرب تونس اور ہند وپاک سے فراہم کی گئی ہیں اس کے ساتھ جامعہ سے وابستہ اہل علم کی تحقیقات سے خوشی ہوئی ان میں اوجز المسالک وغیرہ سرِ فہرست ہیں ۔
امام مسجد اقصیٰ ﴿شیخ ﴾ محمد محمود الصیام
حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی
ہمارے فاضلاور محدث دوست مولانا ڈاکٹر تقی الدین صاحب ندوی ﴿ جن کی فن حدیث سے متعلق قیمتی اور منفرد تحقیقات و تصنیفات عالم آشکار ہیں ﴾ کی دعوت پر یکم ذیقعدہ 1425ھ بروز سہ شنبہ جامعہ اسلامیہ مظفر پور اعظم گڑھ کی زیارت کا موقع ملا ۔
اس موقع پر جامعہ اسلامیہ میں قائم "مرکز الشیخ أبی الحسن الندوی للبحوث و الدراسات الاسلامیہ " کو دیکھ کر دل فرط مسرت سے جھوم جھوم اٹھا مرکز ایسی پُر شکوہ ہے کہ اس کو دیکھتے ہی آنکھوں کو ٹھنڈک اور دلوں کو ایک خاص قسم کی فرحت حاصل ہوتی ہے۔ ڈاکٹر تقی الدین صاحب ندوی کو اﷲ تعالیٰ نے بیش قیمت علمی تصنیفات اور نادر مخطوطات کو جمع کرنے اور اس عظیم الشان مرکز کو ہر طرح کی علمی ادبی اور تاریخی کتابوں کے جدید ترین ایڈیشنوں سے آراستہ کرنے کا جو ذوق عطا فرمایا ہے وہ انتہائی درجہ حیرت ناک ہے ۔ " مرکز الشیخ أبی الحسن الندوی " کا یہ وہ بنیادی امتیاز ہے جو دنیا کے دیگر مکتبوں خصوصاً ہندوستان کے بڑے بڑے کتب خانوں کو بھی حاصل نہیں یہی وجہ ہے کہ اس مرکز کو تصنیف و تالیف اور بحث و تحقیق سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے ایک بڑے علمی و تحقیقی سینٹر کی شکل میں دیکھا جارہا ہے
حضرت مولانا ڈاکٹر تقی الدین صاحب ندوی کو اﷲ تعالیٰ نے جو اپنی خصوصی توفیق سے نوازا ہے اس کو دیکھ کر رشک آتا ہے اور دل سے دعا نکلتی ہے کہ اﷲتعالیٰ موصوف کی عمر دراز فرمائیں تاکہ آپ کے علمی فیوض و برکات کا سلسلہ تادیر قائم رہے اور طالبان علوم نبوت اور واردانِ بساط تحقیق و معرفت آپ کے علم وافر سے کسب فیض کریں اور آپ کے قائم کردہ عظیم الشان تحقیقی مرکز سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں و ما ذلک علی اﷲ بعزیز۔

حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی
Visitor Counter